Translate

Tuesday, March 18, 2025

ماہِ رمضان اور قرآن مجیدمحمد طارق بدایونی

ماہِ رمضان اور قرآن مجید
محمد طارق بدایونی

ماہِ رمضان”ماہِ قرآن“ ہے اور اسی ماہ میں لیلۃ القدر ہے۔ اسی میں قرآن مجید لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر قرآن مجید کا نزول ہوا اور اسی میں رسول اللہﷺ کے قلبِ اطہر پر بھی غارِ حرا میں قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا۔ اسی مہینے میں رسولِ خداﷺ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔
 ان تمام وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کی قرآن مجید کے حوالے سے عنایات، دل چسپی، تلاوتِ قرآن کی کثرت بڑھ جانی چاہیے، جیسا کہ اس مہینے کے آتے ہی نبی اللہ کے معمولات میں غیر معمولی اضافہ ہو جایا کرتا تھا، صحابہ کرام اور سلف صالحین کی سرگرمیاں شباب پر پہنچ جایا کرتی تھیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَّن تَبُورَ۔(فاطر: ۲۹)
 (جولوگ کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے رات دن خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کی امید لگائے ہوئے ہیں جس کو کبھی خسارہ نہیں ہوگا۔)

نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لأَصْحَابِهِ.( رواه مسلم)
(قرآن مجید پڑھو؛ کیوں کہ قیامت روزہ وہ سفارشی بن کر آئے گا۔) 
 
قرآن مجید کی تلاوت اور کثرت کے ساتھ تلاوت کرناافضل عبادات میں سے ہے، سب سے بہترین قربِ الٰہی ہے، سب سے اہم طاعتِ رب ہے۔ اس میں بے شمار اجر ہے، اللہ رب العالمین کے ساتھ نفع بخش تجارت ہے۔  البتہ ماہِ مبارک میں اس کی الگ ہی شان ہے؛ کیوں کہ رسول اللہﷺ کی ماہِ مبارک میں قرآن مجید کے ساتھ خاص عنایت تھی۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:
الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: الصِّيَامُ أَيْ رَبِّ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ، قَالَ فَيُشَفَّعَانِ۔[مسند احمد بن حنبل، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند عبد اللہ بن عمر بن العاصؓ، رقم الحدیث: ۶۶۲۶]
(روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کر یں گے، روزہ کہے گا کہ پروردگار میں نے دن کے وقت اسے کھانے اور خواہشات کی تکمیل سے روکے رکھا اس لئے اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما اور قرآن کہے گا کہ میں نے رات کو اسے سونے سے روکے رکھا اس لئے اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما چنانچہ ان دونوں کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔)

 ہر سال رمضان المبارک کی راتوں میں پیارے حبیب محمدﷺ اور جبرئیل علیہ السلام کے درمیان قرآن مجید کا دور ہوتا، گویا وہ مطالعہ قرآن و درس و تدریسِ قرآن کا موسم ہوا کرتا تھا اور پھر جس سال آپﷺ کا وصال ہوا، آپﷺ نے دو مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا۔ جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اس کا اثبات مکمل ہوا اور جس چیز کو نسخ کر دیا وہ منسوخ ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَمْحُو اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ  وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ۔(الرعد: ۳۹)
(اللہ جو بات چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے نقش کردیتا ہے اور کتاب کی اصل و بنیاد اسی کے پاس ہے۔)
 حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: 
کَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَجْوَدَ النَّاسِ وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ۔ [صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبیﷺ، رقم الحدیث: ۳۵۵۴]
( رسول اللہﷺسب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب آپﷺ سے جبرائیل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپﷺ سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے اور آپﷺ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے۔ اس وقت رسول اللہﷺ خیر و بھلائی کے معاملے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔)

رسول اللہﷺ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے کیا کرتے تھے اور تلاوت کو طول دیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے آپ خوب ٹھہر ٹھہر کر حسنِ ادائی کے ساتھ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ آپﷺ قیام میں  عام راتوں کے مقابلے میں قرأت کو لمبا فرماتے۔ 
مختلف احادیث میں الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ یہ واقعہ ملتا ہے کہ رمضان المبارک کی ایک رات نماز میں آپﷺ نے سورۃ البقرۃ پڑھی اور اس کے بعد آلِ عمران شروع کر دی، جب وہ ختم کی تو آپﷺ نے سورۃ النساء مکمل پڑھی۔ جب آپ آیتِ تخویف سے گزرتے تو اس پر ٹھہر تےتو اس پر اللہ کی پناہ کا سوال کرتے تھے؛ حتی کہ حضرت بلالؓ نے فجر کی اذان کہی۔ [دیکھیے: مسند احمد بن حنبل، مسند الانصارؓ، حدیث حذیفہ بن الیمان عن النبیﷺ، رقم الحدیث: ۲۳۳۹۹]

صحابہ کرام اور سلف صالحین رمضان المبارک میں اپنے وقت کا ایک بڑا حصّہ قرآن مجید کی تلاوت، تدبرِ آیات، درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کے لیے خاص کر لیتے تھے۔ وہ جب روزہ رکھتے تو مساجد میں بیٹھ جاتے اور قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے اور فرمایا کرتے تھے کہ ہم اپنے روزے کی حفاظت کر رہے ہیں اور کسی کی عیب جوئی یا غیبت وغیرہ میں نہیں لگتے۔ رضی اللہ عنھم و رحمۃ اللہ علیھم اجمعین۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شوقِ تلاوتِ کلام اللہ کا یہ عالم تھا کہ رمضان المبارک میں وہ اکثر تین روز میں قرآن شریف مکمل کر لیا کرتے تھے۔ بعض صحابہ سات دنوں میں اور بعض چالیس دونوں میں پورے قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [دیکھیے: ابن ماجہ،  ۱۱۰۵]

حضرت امام مالکؒ کا معمول تھا کہ جب رمضان کا بابرکت مہینہ آتا تو وہ احادیثِ نبویہ کے کاموں میں مشغول نہیں رہتے؛ بلکہ قرآن مجید کے لیے اپنے آپ کو فارغ کر لیا کرتے تھے۔ آپ مجلسِ حدیث اور اہلِ علم کی مجلس سے دوری ہی اختیار نہیں فرماتے؛ بلکہ باقاعدہ مصحف کھول کر، اسے دیکھ کر تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ [لطائف المعارف، ابن رجب، ص: ۲۴۵] امام مالک کے بارے میں علامہ عائض القرنی نے تو یہ جملہ لکھا ہے: ھذا شھر القرآن، لا کلام فیہ إلا مع القرآن۔ یہ قرآن حکیم کا مہینہ ہے، اس میں قرآن کے علاوہ کوئی اور بات چیت نہیں ہوگی۔ سبحان اللہ!

امام زہری فرمایا کرتے تھے کہ جب رمضان المبارک آ جائے تو قرأتِ قرآن میں مشغول ہو جانا چاہیے؛ کیوں کہ یہ قرآن مجید کی تلاوت، مسکینوں کو کھلانے اور ایثار و قربانی کا مہینہ ہے۔  روزے دار کو چاہیے کہ رمضان المبارک میں نبی اللہﷺ، صحابہ کرام اور سلف صالحین کی اقتدا و پیروی کرتے ہوئے اپنے وقت کو غنیمت جان کر تلاوتِ کلام اللہ، اس پر غور و فکر، معانی و مطالب کے افہام و تفہیم، خشوع و خضوعِ الٰہی اور درجات کی بلندی کی امید میں گزارے۔

امام شہاب زہریؒ رمضان کی آمد پر کہا کرتے تھے کہ یہ قرآن کریم کی تلاوت اور کھانا کھلانے کا مہینہ ہے۔[لطائف المعارف، ابن رجب، ص: ۲۴۵]

امام احمد بن حنبل رمضان آتے ہی فقہ و فتاویٰ کا کام بند کر دیتے تھے اور بالکل یکسوئی کے ساتھ ذکرِ الٰہی اور تلاوت کلام اللہ میں لگ جاتے تھے۔
اللہ ہمیں بھی اس طرح کے اہتمام کی توفیق دے۔ آمین

No comments:

Post a Comment

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گئے ڈاکٹر احتشام فریدی

آہ بھائی حافظ مامون اصغر دنیا چھوڑ گۓ  ڈاکٹر احتشام فریدی مرحوم کا اچانک دنیا کو الوداع کہ دینا یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ان ...